بھٹکل ، 30 ؍مارچ (ایس او نیوز )گذشتہ روز مرشد امت بقیۃ السلف حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی(صدر آل انڈیامسلم پرسنل لاءبورڈ) کے مبارک ہاتھوں سے معہد امام حسن البنابھٹکل سےشائع شدہ دو کتابوں کااجراء ”مکتوبات شہباز“(مرتب ناصر سعید اکرمی)اور ”ذِکر ندوہ“(مؤلف مولانا ڈاکٹراکرم ندوی) عمل میں آیا۔ تقریب میں ندوہ میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے جلسے میں تشریف فرما بعض مندوبین بھی شریک تھے۔
(۱) مکتوبات شہباز : یہ کتاب مولانا شہباز اصلاحی مرحوم کے ان خطوط پر مشتمل ہے جو حضرت نے اپنے شاگردوں اور متعلقین کو لکھے تھے، کتاب میں بعض وہ اقتباسات ہیں جن کے پڑھنے سے مولانا شہباز اصلاحی کی شخصیت کا اندازہ ہوجائےگا، کسی نے مولانا کو علم کابحر ذخار لکھا ہے تو کسی نے آپ کو علم کا انسائیکلوپیڈیا اور کسی نے چلتی پھرتی لائبریری سے تشبیہ دی ہے، مولانا ہر فن مولا تھے، عربی،اردو،فارسی اور ہندی پر آپ کو عبور حاصل تھا، مولانا جماعت اسلامی سے منسلک ہونے کے باوجود حضرت شاہ وصی اللہؒ اور حضرت مولانا ابوالحسن علی حسنی ندویؒ سے بیعت تھے،گویا پوری زندگی احسان و سلوک و تصوف کو اپنایا، کتاب ھذا میں حضرت مولانا شاہ وصی اللہ ؒکو لکھا گیا خط بھی ملاحظہ فرمائیں گے، اور ساتھ ہی ساتھ حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی کا خوبصورت مقدمہ ہے اور مولانا شہباز صاحب کا مختصر تعارف اور تمام مکتوب الیہ مختصر تعارف موجود ہے۔
(۲) ذکر ندوہ: یہ کتاب مولانا ڈاکٹر اکرم ندوی مدظلہ کی ہے، مولانا کی ستر سے زائد کتابیں ہیں اور ان میں سے اکثر عربی میں ہیں، مولانا کا ایک بڑا کارنامہ محدثات پر لکھی گئی ”الوفاء باسماء النساء“ کی 43 جلدیں ہیں جو دارلمنھاج سے چھپی ہیں، مولانا اکرم قلم کے بادشاہ ہیں، ان کا سیال قلم جب چلتا ہے تو علم کے موتی بکھیرتا چلا جاتا ہے، ایک طرف ماجدی اسلوب ہے تو دوسری طرف مولانا آزاد کا انداز تحریر کار فرما نظر آتی ہے، ذکر ندوہ کتاب میں مولانا نے اپنے ندوہ میں بیتے ہوئے ایام کو نہایت خوبصورت اور البیلے انداز میں تحریر فرمایا ہے اور اپنے مادر علمی کی ایک ایک چیز کو نہایت سلیقے سے ضبط تحریر میں لایا ہے، جو پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے، کتاب کا ایک اقتباس اگر یہاں نقل کیا جائے تو قاری عش عش کیے بغیر نہیں رہے گا، لیکن اقتباس نقل کر کے آپ کو تشنہ چھوڑنا بہتر نہیں ہے۔
پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے مولانا ناصر اکرمی ندوی نے بتایا ہے کہ مذکورہ دونوں کتابوں پر خصوصی رعایت رکھی گئی ہے اور یہ رعایت پورے رمضان تک ان شاء اللہ رہے گی، بلکہ معہد سے شائع شدہ تمام کتابوں پر یہ رعایت رہے گی، انہوں نے مذکورہ کتابوں کو ہندوستان کی مختلف لائبریریوں میں پہنچانے کے لیے عوام الناس اور ذمہ داران سے ساتھ دینے کی بھی اپیل کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ عمل یہ بھی ثواب جاریہ کے ضمن میں آتا ہے، انہوں نے بتایا کہ علم مطالعہ سے بڑھتا ہے اور مطالعہ نہ کرنے سے گھٹ بھی جاتا ہے،اس لیے ہمیشہ نئی سے نئی کتاب اپنے مطالعے میں رکھنے چاہئے۔